ہوناور،11؍فروری (ایس او نیوز) کھروا گرام پنچایت میں صدر اور نائب صدر عہدے کے لئے جو امیدوار تھے انہیں فلمی انداز میں اغواء کرلیا گیا جس کے بعد انتخابی کارروائی ملتوی کردی گئی ہے۔
ہوناور تعلقہ میں گرام پنچایت صدارتی عہدے کو ریزرو کرنے کا جو عمل ہوا تھا اس پر بہت سارے امیدواروں نے بے اطمینانی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے باوجود بدھ کے دن اکثر گرام پنچایتوں میں عہدیداروں کے انتخاب کی کارروائی پوری کردی گئی۔ لیکن کھروا گرام پنچایت میں انتخابی کارروائی اس لئے روک دینی پڑی کیونکہ یہاں مبینہ طور پر اشوک پرمیشور بھٹ، اجیت تمپّا نائک، رمیش مادیوا نائک اور کانتپّا راگھویندرا شانبھاگ نے صدر اور نائب صدر عہدے کے دوامیدواروں کا اغواء کرلیا۔
اغواء کیے گئے امیدواروں کے گھر والوں نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ صدارتی امیدوار ابراہیم صاب اور نائب صدر امیدوار سمیتا (نام تبدیل کیا گیا ہے) کانگریسی لیڈروں اور گرام پنچایت امیدواروں کے ساتھ جب ہوناور میں واقع کانگریس دفتر سے کار میں بیٹھ کر انتخاب میں حصہ لینے کے لئے کھروا گرام پنچایت کی طرف جا رہے تھے تو بغیر نمبر پلیٹ والی دو تین کاریں سڑک پر کھڑی کرکے ان کا راستہ روکا گیااور مندرجہ بالا ملزمین نے جان بوجھ کر اپنی کار اس کار سے ٹکرائی جس میں امیدوار بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ملزموں نے گالی گلوچ کرتے ہوئے ان دونوں امیدواروں کو زبردستی گھسیٹ کر اپنی کار میں گیروسوپّا کی جانب لے گئے اور جاتے جاتے غیر شادی شدہ خاتون امیدوار کے والد کو یہ دھمکی بھی دے گئے کہ اگر پولیس میں شکایت درج کروگے تو تمہاری بیٹی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔
ضلع شمالی کینرا میں سیاست کے بدلتے اس انداز پر لوگ تشویش کا اظہار کرر ہے ہیں اور دستوری حقوق کے تحت انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اور ایک غیر شادی شدہ خاتون تک کو اس طرح روکنے اور اغواء کرنے کو ایک شرمناک عمل قرار دے رہے ہیں۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ قصورواروں کے خلاف کڑی کارروائی کرتے ہوئے سخت سے سخت سزا دی جائے۔
شکایت ملنے کے بعد پولیس سرکل انسپکٹر شریدھراور اے ایس پی اشوک نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور تمام تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔